انقرہ، 18/اگست (آئی این ایس انڈیا)صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے لیبیا کے سیاسی حل پر یقین ظاہر کیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم لیبیا میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کے خلاف ہیں جس کا برملا اظہار ہر موقع پر کیا جاتا رہا ہے۔
ابراہیم قالن نے قطری الجزیرہ ٹی وی سے گفتفگو کے دوران کہا کہ ترکی اور قطر سمیت بعض دیگر ممالک لیبیا کے پر امن سیاسی تصفیہ کی حمایت میں وہاں موجود ہیں، ہم لیبیا کے سیاسی حل کے حامی ہیں سیرتہ اور جفرا میں اس سال کے دوران جو فوجی مداخلت ہوئی اس پر ہمیں تشویش بھی ہے۔
انہوں نے کہا یہ صورت حال قیام امن اور لیبیا کی سالمیت کےلیے خطرہ ہے اور بطور ترکی ہم نے لیبیا کی تقسیم پر مبنی سرکاری اور غیر سرکاری تمام منصوبوں کو مسترد کر دیا ہے، لیبیا میں عسکری مداخلت مسائل کا حل نہیں جس کا ہم نے بارہا ذکر بھی کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ترکی لیبیا کے موضوع پر کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے ،مصر کا جہاں تک سوال ہے تو وہ اس کا ہمسایہ ہے اور امید ہے کہ وہ اس سلسلے میں مثبت اور تعمیری لائحہ عمل اپنائے گا،درحقیقت ہمیں روس کے اجرتی فوجیوں اور عرب امارات کی طرف سے مشرقی لیبیا میں ناجائز حفتر ملیشیا کی مدد کےلیے سوڈان ،نائیجر اور چاڈ جیسے ممالک سے اجرتی فوجیوں کو بھرتی کرنا ہے۔
انہوں نے کہا اگر لیبیائی حکومت سیرتہ اور جفرا کو اسلحے سے پاک کروانے کےلیے پیش کردہ شرائط قبول کر لے توہم بھی اسی کی حمایت کریں گے لیکن ان شرائط کا منصفانہ ہونا ضروری ہوگا،یہ دونوں شہر سیاسی تصفیئے کےلیے ایک دریچہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
مشرقی بحیرہ روم کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ ہم علاقے میں کشیدگی نہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ بحیرہ روم کے تمام ہمسایہ ممالک امنو خوشحالی کے لیے اپنا فرض ادا کریں اور قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو ممکن بنانے میں مدد کریں۔